حمل کے دوران کون سی غذائی سپلیمنٹس کب اور کیوں لیں؟ ماں اور بچے کی مکمل صحت کا راز

webmaster

임신 중 필요한 영양제와 복용 시기 - **Prompt:** A serene, young pregnant woman in her first trimester, with a subtle baby bump, gently c...

حمل کا سفر ہر عورت کی زندگی کا ایک خوبصورت اور نازک مرحلہ ہوتا ہے، جہاں ہر ماں اپنے ننھے مہمان کی بہترین صحت کے لیے فکرمند رہتی ہے۔ مجھے یاد ہے جب میں خود اس دور سے گزر رہی تھی، تو سب سے پہلے یہی خیال آتا تھا کہ میں کیا کھاؤں، کیا پئیوں تاکہ میرے بچے کی نشوونما ٹھیک ہو؟ آج بھی بہت سی بہنیں اسی کشمکش میں رہتی ہیں کہ کون سی غذائی اجزاء کب اور کیسے لی جائیں تاکہ حمل کے دوران ماں اور بچے دونوں صحت مند رہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ صحیح وقت پر صحیح وٹامنز اور منرلز کا استعمال آپ کے حمل کو نہ صرف آسان بناتا ہے بلکہ بچے کی ذہنی اور جسمانی صحت کی بنیاد بھی مضبوط کرتا ہے۔ بعض اوقات ڈاکٹر کی بتائی گئی باتوں کے علاوہ بھی کچھ ایسی باتیں ہوتی ہیں جو ہمارے بڑے بتاتے ہیں، مگر سائنسی پہلو سے انہیں سمجھنا بھی ضروری ہے۔ آج کل تو جدید تحقیق نے ہمیں بہت سی نئی باتیں سکھائی ہیں جنہیں جان کر ہم بہتر فیصلے کر سکتے ہیں۔ تو آئیے، آج ہم ان تمام ضروری غذائی اجزاء اور انہیں لینے کے بہترین اوقات کے بارے میں تفصیل سے جانتے ہیں۔ نیچے دیے گئے مضمون میں ہم انہی سب باتوں کو بہت واضح طریقے سے سمجھیں گے!

حمل کے آغاز میں ضروری طاقت: فولک ایسڈ اور آئرن کی اہمیت

임신 중 필요한 영양제와 복용 시기 - **Prompt:** A serene, young pregnant woman in her first trimester, with a subtle baby bump, gently c...

فولک ایسڈ: بچے کی صحیح نشوونما کا سنگ بنیاد

مجھے اچھی طرح یاد ہے جب میں پہلی بار ڈاکٹر کے پاس گئی تھی اور حمل کی تصدیق ہوئی، تو انہوں نے سب سے پہلے فولک ایسڈ کی اہمیت پر زور دیا تھا۔ یہ واقعی ہمارے بچے کی ریڑھ کی ہڈی اور دماغ کی صحیح نشوونما کے لیے بہت ضروری ہے۔ کبھی کبھی ہم سوچتے ہیں کہ بس سب کچھ کھانے پینے سے ہی پورا ہو جائے گا، لیکن کچھ خاص غذائی اجزاء ایسے ہوتے ہیں جن کی مقدار ہمیں سپلیمنٹس کے ذریعے ہی ملتی ہے۔ فولک ایسڈ ان میں سے ایک ہے اور اس کی کمی سے بچے میں پیدائشی نقائص پیدا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ یہ بات سن کر تو میں اور زیادہ محتاط ہو گئی تھی کہ کوئی کمی نہ رہ جائے۔ اس لیے، حمل کے منصوبہ بندی کے وقت سے ہی اس کا استعمال شروع کرنا انتہائی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ اکثر ڈاکٹرز حمل کے ابتدائی 12 ہفتوں تک اس کی تجویز کرتے ہیں کیونکہ یہ وہ دور ہوتا ہے جب بچے کے اہم اعضاء کی تشکیل ہو رہی ہوتی ہے۔ یہ نہ صرف بچے کی صحت کے لیے بلکہ ماں کی مجموعی صحت کے لیے بھی ایک اہم وٹامن ہے۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ کیسے ہر صبح میں اپنا فولک ایسڈ کی گولی لیتی تھی اور دل میں یہ اطمینان ہوتا تھا کہ میں اپنے بچے کے لیے بہترین کر رہی ہوں۔ سبز پتوں والی سبزیاں، دالیں اور کچھ قلعہ بند غذائیں بھی اس کا اچھا ذریعہ ہیں، لیکن سپلیمنٹ کے بغیر اکثر مقدار پوری نہیں ہو پاتی۔

آئرن: ماں اور بچے دونوں کے لیے خون کی فراہمی

حمل کے دوران جسم میں خون کی مقدار کافی بڑھ جاتی ہے تاکہ بچے کو بھی مناسب آکسیجن اور غذائی اجزاء مل سکیں۔ ایسے میں آئرن کی کمی یعنی خون کی کمی (انیمیا) کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جو میری طرح بہت سی حاملہ خواتین کو محسوس ہوتا ہے۔ میں خود بھی بہت تھکا ہوا محسوس کرتی تھی اور ذرا سی سیڑھی چڑھنے سے سانس پھولنے لگتی تھی۔ جب ڈاکٹر نے بتایا کہ میرے جسم کو زیادہ آئرن کی ضرورت ہے، تو مجھے سمجھ آیا کہ یہ کمزوری کیوں تھی۔ آئرن بچے کی نشوونما اور ماں کی توانائی دونوں کے لیے بے حد ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بچے کے دماغی خلیوں کی تشکیل میں بھی مدد کرتا ہے اور حمل کے دوران تھکاوٹ، چکر آنے اور کمزوری جیسے مسائل سے بچاتا ہے۔ آئرن سپلیمنٹس عام طور پر حمل کے دوسرے اور تیسرے سہ ماہی میں زیادہ تجویز کیے جاتے ہیں، لیکن کچھ خواتین کو شروع سے ہی اس کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ کالے چنے، پالک، خشک میوہ جات اور سرخ گوشت آئرن کے اچھے قدرتی ذرائع ہیں، لیکن ان سے حاصل ہونے والی مقدار اکثر کافی نہیں ہوتی۔ اس لیے ڈاکٹر کی ہدایت پر آئرن سپلیمنٹ لینا بہت ضروری ہے۔

بچے کی ہڈیوں کی مضبوطی اور ماں کی صحت: کیلشیم اور وٹامن ڈی کا کردار

Advertisement

کیلشیم: مضبوط ہڈیوں اور دانتوں کی بنیاد

میرے خیال میں کیلشیم کی اہمیت کو کوئی بھی نظر انداز نہیں کر سکتا، خاص طور پر حمل کے دوران۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ ہماری ہڈیوں اور دانتوں کے لیے کتنا ضروری ہے، لیکن جب بات حمل کی آتی ہے، تو اس کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ میرا ڈاکٹر ہمیشہ کہتا تھا کہ بچہ اپنی ضروریات ماں کے جسم سے پوری کرتا ہے، اور اگر ماں کے جسم میں کیلشیم کی کمی ہو تو بچہ ماں کی ہڈیوں سے کیلشیم لینا شروع کر دیتا ہے۔ یہ سن کر میں تو کافی پریشان ہو گئی تھی، کیونکہ میری اپنی ہڈیاں پہلے ہی اتنی مضبوط نہیں تھیں۔ اس لیے، کیلشیم کی مناسب مقدار نہ صرف بچے کی ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی کے لیے بلکہ ماں کو آسٹیوپوروسس (ہڈیوں کی کمزوری) سے بچانے کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ حمل کے تیسرے سہ ماہی میں بچے کی ہڈیوں کی نشوونما بہت تیزی سے ہوتی ہے، اس لیے اس وقت کیلشیم کی ضرورت عروج پر ہوتی ہے۔ دودھ، دہی، پنیر اور سبز پتوں والی سبزیاں کیلشیم کے بہترین قدرتی ذرائع ہیں۔ اگر آپ دودھ زیادہ پسند نہیں کرتیں تو دہی یا پنیر کا استعمال بڑھا سکتی ہیں۔

وٹامن ڈی: کیلشیم کے جذب کا ضامن

کیلشیم کی طرح وٹامن ڈی بھی ایک بہت اہم غذائی جزو ہے، جس کے بارے میں اکثر لوگ زیادہ نہیں جانتے۔ مجھے تو یہی لگتا تھا کہ دھوپ میں بیٹھنے سے وٹامن ڈی مل جاتا ہے، جو کسی حد تک سچ بھی ہے، لیکن حمل میں اس کی اہمیت اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ وٹامن ڈی صرف ہڈیوں کے لیے نہیں بلکہ جسم کے کئی دیگر افعال کے لیے بھی ضروری ہے۔ خاص طور پر، یہ جسم میں کیلشیم کو صحیح طریقے سے جذب کرنے میں مدد کرتا ہے۔ اگر جسم میں وٹامن ڈی کی کمی ہو تو آپ کتنا بھی کیلشیم لے لیں، وہ صحیح سے استعمال نہیں ہو پائے گا۔ اس لیے، وٹامن ڈی اور کیلشیم ایک دوسرے کے بغیر نامکمل ہیں۔ وٹامن ڈی کی کمی سے بچے کی ہڈیوں کی نشوونما پر منفی اثر پڑ سکتا ہے اور ماں کو بھی مختلف صحت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ میں نے تو حمل کے دوران صبح کی دھوپ میں بیٹھنے کا معمول بنا لیا تھا، لیکن ڈاکٹر نے سپلیمنٹ بھی تجویز کیا تھا کیونکہ صرف دھوپ سے اکثر مقدار پوری نہیں ہوتی۔ مچھلی، انڈے کی زردی اور کچھ قلعہ بند غذائیں بھی وٹامن ڈی کا ذریعہ ہیں۔

دماغی نشوونما اور آنکھوں کی صحت: اومیگا تھری فیٹی ایسڈز

ڈی ایچ اے اور ای پی اے: بچے کے دماغ کی بہترین خوراک

جب میں ڈاکٹر کے پاس جاتی تھی تو وہ بچے کی ذہنی نشوونما پر بہت زور دیتے تھے، اور یہ سن کر مجھے بہت خوشی ہوتی تھی کہ میں اپنے بچے کے دماغ کو تیز بنا سکوں۔ یہی وجہ ہے کہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈز، خاص طور پر ڈی ایچ اے (DHA)، حمل کے دوران بہت ضروری ہیں۔ یہ بچے کے دماغ، اعصابی نظام اور آنکھوں کی بہترین نشوونما کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ نہیں کہ یہ صرف بچے کے لیے فائدہ مند ہیں، بلکہ ماں کے لیے بھی ان کے کئی فوائد ہیں، جیسے موڈ کو بہتر بنانا اور بعد از پیدائش ڈپریشن سے بچانا۔ مجھے یاد ہے کہ میری ایک دوست کو حمل کے بعد کافی ڈپریشن ہو گیا تھا اور ڈاکٹر نے اسے اومیگا تھری سپلیمنٹس لینے کا مشورہ دیا تھا، تو اس سے مجھے اندازہ ہوا کہ یہ کتنے اہم ہیں۔ عموماً، ڈاکٹرز حمل کے دوسرے سہ ماہی سے اومیگا تھری سپلیمنٹس لینے کا مشورہ دیتے ہیں جب بچے کے دماغ کی نشوونما تیزی سے ہو رہی ہوتی ہے۔ سرد پانی کی مچھلیاں جیسے سالمن اور سارڈینز، اخروٹ اور السی کے بیج اومیگا تھری کے اچھے ذرائع ہیں۔

معافیت بڑھانے والے وٹامنز: وٹامن سی اور زنک

Advertisement

وٹامن سی: بیماریوں سے بچاؤ اور مضبوط مدافعتی نظام

حمل کے دوران ہمارا جسم بہت سے تبدیلیوں سے گزرتا ہے اور ایسے میں مدافعتی نظام کا مضبوط ہونا بہت ضروری ہے تاکہ ماں اور بچے دونوں کو بیماریوں سے بچایا جا سکے۔ وٹامن سی، جو عام طور پر کھٹے پھلوں میں پایا جاتا ہے، ہمارے مدافعتی نظام کو طاقت بخشتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ حمل کے دوران چھوٹی چھوٹی بیماریاں بھی بہت پریشان کن لگتی تھیں، اس لیے میں وٹامن سی سے بھرپور غذائیں لینے کا خاص خیال رکھتی تھی۔ یہ صرف بیماریوں سے بچاتا نہیں بلکہ بچے کی ہڈیوں، دانتوں اور خون کی شریانوں کی نشوونما میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ جسم میں آئرن کے جذب ہونے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اس لیے اگر آپ آئرن سپلیمنٹ لے رہی ہیں تو اس کے ساتھ وٹامن سی سے بھرپور غذاؤں کا استعمال سونے پر سہاگہ کا کام کرے گا۔ مالٹے، کینو، امرود، اسٹرابیری اور شملہ مرچ جیسے پھل اور سبزیاں وٹامن سی کے بہترین ذرائع ہیں۔

زنک: خلیوں کی صحت اور نشوونما کا محافظ

زنک ایک ایسا ضروری معدنیات ہے جس کے بارے میں ہم اکثر زیادہ بات نہیں کرتے، لیکن حمل میں اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ یہ خلیوں کی تقسیم، ڈی این اے کی تشکیل اور بچے کی نشوونما کے لیے نہایت ضروری ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ جب میں زنک کی مناسب مقدار لے رہی تھی تو مجھے کسی حد تک نزلہ زکام اور چھوٹی موٹی بیماریوں سے بھی بچت رہی۔ یہ ماں اور بچے دونوں کے مدافعتی نظام کو مضبوط کرتا ہے۔ زنک کی کمی سے بچے کی پیدائش میں مسائل پیدا ہو سکتے ہیں اور بچے کا وزن کم رہ سکتا ہے۔ اس لیے، حمل کے دوران زنک کی مناسب مقدار کا حصول بہت ضروری ہے۔ سرخ گوشت، چکن، دالیں اور گری دار میوے زنک کے اچھے قدرتی ذرائع ہیں۔ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق سپلیمنٹس بھی لیے جا سکتے ہیں۔

خون کی کمی سے بچاؤ اور توانائی: وٹامن بی کمپلیکس

임신 중 필요한 영양제와 복용 시기 - **Prompt:** A visibly pregnant woman in her third trimester, radiating health and strength, sitting ...

وٹامن بی 12 اور بی 6: توانائی اور اعصابی صحت

حمل کے دوران جسم میں توانائی کی سطح برقرار رکھنا ایک چیلنج ہوتا ہے، اور میں خود بھی اکثر توانائی کی کمی محسوس کرتی تھی۔ وٹامن بی کمپلیکس کے وٹامنز، خاص طور پر وٹامن بی 12 اور وٹامن بی 6، اس معاملے میں بہت اہم ہیں۔ وٹامن بی 12 خون کے سرخ خلیوں کی تشکیل میں مدد کرتا ہے اور اعصابی نظام کی صحیح کارکردگی کے لیے ضروری ہے۔ اس کی کمی سے خون کی کمی (انیمیا) ہو سکتی ہے، جس سے میں پہلے ہی لڑ رہی تھی۔ میں نے محسوس کیا کہ جب میں نے بی کمپلیکس سپلیمنٹس لینا شروع کیے تو میری تھکاوٹ میں کافی کمی آئی اور میں زیادہ چاق و چوبند محسوس کرنے لگی۔ وٹامن بی 6 متلی اور قے کو کم کرنے میں بھی مدد کرتا ہے جو حمل کے ابتدائی مہینوں میں بہت عام ہوتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ حمل کے پہلے تین مہینوں میں مجھے ہر وقت متلی رہتی تھی، اور ڈاکٹر نے بی 6 سپلیمنٹ تجویز کیا تھا جس سے مجھے کافی راحت ملی تھی۔ یہ دونوں وٹامنز بچے کے دماغ کی نشوونما کے لیے بھی اہم ہیں۔ گوشت، مچھلی، انڈے، دودھ اور اناج وٹامن بی کمپلیکس کے اچھے ذرائع ہیں۔

قبض سے نجات اور ہاضمے کی بہتری: فائبر کا جادو

Advertisement

فائبر: حمل کے دوران ہاضمے کا بہترین ساتھی

حمل کے دوران قبض کا مسئلہ بہت سی خواتین کے لیے ایک عام اور پریشان کن تجربہ ہوتا ہے۔ میں خود بھی اس سے بہت تنگ آ گئی تھی۔ ہارمونل تبدیلیوں اور بڑھتے ہوئے بچہ دانی کے دباؤ کی وجہ سے ہاضمہ سست ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے قبض ہو جاتا ہے۔ ایسے میں فائبر ہماری بہترین دوست بن سکتی ہے۔ فائبر آنتوں کی حرکت کو بہتر بناتا ہے اور قبض سے نجات دلاتا ہے۔ میں نے جب اپنی غذا میں فائبر سے بھرپور چیزیں شامل کیں تو مجھے بہت سکون ملا۔ یہ نہ صرف ہاضمے کو بہتر بناتا ہے بلکہ خون میں شوگر کی سطح کو بھی کنٹرول کرنے میں مدد کرتا ہے۔ دل کی صحت کے لیے بھی فائبر بہت مفید ہے۔ اناج، دالیں، پھل اور سبزیاں فائبر کے بہترین قدرتی ذرائع ہیں۔ ہر روز کم از کم 25 سے 30 گرام فائبر کا استعمال بہت فائدہ مند ہوتا ہے۔ پانی کا زیادہ استعمال بھی فائبر کے ساتھ مل کر قبض کو دور کرنے میں مدد کرتا ہے۔

حمل کے دوران پانی کی اہمیت اور الیکٹرولائٹس

پانی: جسمانی افعال اور بچے کی نشوونما کے لیے بنیادی

کبھی کبھی ہم اتنے بڑے بڑے غذائی اجزاء کی باتیں کرتے ہیں کہ پانی جیسی بنیادی چیز کو بھول جاتے ہیں۔ لیکن حمل میں پانی کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ میں نے خود محسوس کیا کہ جب میں کم پانی پیتی تھی تو زیادہ تھکا ہوا محسوس کرتی تھی اور سر میں ہلکا درد بھی رہتا تھا۔ حمل کے دوران جسم میں خون کی مقدار بڑھ جاتی ہے، امینیوٹک فلوئڈ (بچے کے گرد موجود پانی) کی تشکیل ہوتی ہے، اور بچے کو غذائی اجزاء پہنچانے کے لیے زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر آپ مناسب مقدار میں پانی نہیں پیتیں تو ڈی ہائیڈریشن ہو سکتی ہے، جو حمل کے دوران مختلف پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے، جیسے قبل از وقت پیدائش کا خطرہ۔ اس لیے، روزانہ کم از کم 8 سے 10 گلاس پانی پینے کا معمول بنائیں۔ مجھے یاد ہے کہ میں اپنے ساتھ ہمیشہ پانی کی بوتل رکھتی تھی تاکہ پانی پینا یاد رہے۔ یہ صرف ہماری صحت کے لیے ہی نہیں بلکہ بچے کی صحیح نشوونما اور امینیوٹک فلوئڈ کے لیول کو برقرار رکھنے کے لیے بھی انتہائی ضروری ہے۔

الیکٹرولائٹس: توازن برقرار رکھنے میں معاون

جب ہم زیادہ پانی پیتے ہیں تو جسم سے کچھ الیکٹرولائٹس بھی خارج ہو سکتے ہیں، خاص طور پر اگر آپ کو حمل کے دوران متلی یا قے کی شکایت رہتی ہے۔ الیکٹرولائٹس جیسے سوڈیم، پوٹاشیم اور کلورائیڈ جسم کے سیال توازن اور اعصابی افعال کے لیے ضروری ہیں۔ ان کا توازن برقرار رکھنا حمل کے دوران بہت اہم ہے۔ میں خود بھی محسوس کرتی تھی کہ جب میں پانی کے ساتھ ساتھ تازہ جوس یا لیموں پانی پیتی تھی تو مجھے زیادہ تازگی محسوس ہوتی تھی۔ یہ محض پیاس بجھانے کے لیے نہیں بلکہ جسم کے اندرونی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے بھی ضروری ہے۔ کبھی کبھی ہلکی پھلکی غذاؤں میں نمکیات کا اضافہ یا ڈاکٹر کے مشورے سے الیکٹرولائٹ ڈرنکس کا استعمال بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر گرم موسم میں یا اگر آپ زیادہ پسینہ بہا رہی ہوں۔ کھیرے، تربوز اور دیگر پانی والے پھل بھی الیکٹرولائٹس اور پانی کی کمی کو پورا کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

غذائی جزو اہمیت بہترین وقت (عمومی) قدرتی ذرائع
فولک ایسڈ بچے کے دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کی نشوونما حمل سے پہلے اور حمل کے پہلے 12 ہفتے پالک، دالیں، قلعہ بند غذائیں
آئرن خون کی کمی سے بچاؤ، ماں اور بچے کی توانائی دوسرا اور تیسرا سہ ماہی کالے چنے، پالک، سرخ گوشت
کیلشیم بچے کی ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی، ماں کی ہڈیوں کی صحت دوسرا اور تیسرا سہ ماہی دودھ، دہی، پنیر، سبز پتوں والی سبزیاں
وٹامن ڈی کیلشیم کے جذب میں مدد، ہڈیوں کی مضبوطی پورا حمل دھوپ، مچھلی، انڈے کی زردی
اومیگا تھری (DHA) بچے کے دماغ اور آنکھوں کی نشوونما دوسرا اور تیسرا سہ ماہی سالمن مچھلی، اخروٹ، السی کے بیج
وٹامن سی مدافعتی نظام، آئرن کا جذب پورا حمل مالٹے، امرود، اسٹرابیری
فائبر قبض سے نجات، ہاضمے کی بہتری پورا حمل اناج، دالیں، پھل، سبزیاں

اختتامی کلمات

ہم سب جانتے ہیں کہ حمل کا سفر کتنا خوبصورت لیکن چیلنجنگ ہوتا ہے۔ اس دوران ماں کی صحت اور بچے کی نشوونما دونوں ہی ہماری اولین ترجیح ہوتی ہیں۔ اس بلاگ پوسٹ میں ہم نے جن غذائی اجزاء پر بات کی، وہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ آپ کے اور آپ کے بچے کے لیے ایک مضبوط اور صحت مند مستقبل کی بنیاد ہیں۔ مجھے امید ہے کہ میری ذاتی کہانیاں اور تجربات آپ کے لیے کچھ مددگار ثابت ہوئے ہوں گے۔ یاد رکھیں، آپ اکیلی نہیں ہیں اور ہر قدم پر ڈاکٹر کا مشورہ لینا بہت ضروری ہے۔

Advertisement

جاننے کے لیے کچھ مفید باتیں

1. اپنے ڈاکٹر سے باقاعدگی سے ملیں اور ان کی ہدایات پر مکمل عمل کریں۔ کوئی بھی سپلیمنٹ یا غذا اپنی مرضی سے شروع نہ کریں۔

2. اپنی خوراک میں پھل، سبزیاں، اناج اور پروٹین کو متوازن انداز میں شامل کریں۔

3. دن بھر میں وافر مقدار میں پانی پیئیں تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو۔

4. مناسب آرام کریں اور ذہنی دباؤ سے بچنے کی کوشش کریں، کیونکہ یہ بھی آپ کی صحت پر اثرانداز ہوتا ہے۔

5. حمل کے دوران کسی بھی غیر معمولی علامت کو نظر انداز نہ کریں اور فوری طور پر اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔

اہم نکات کا خلاصہ

حمل کے دوران فولک ایسڈ، آئرن، کیلشیم اور وٹامن ڈی جیسے ضروری غذائی اجزاء کی اہمیت کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ یہ نہ صرف بچے کے دماغ، ہڈیوں اور خون کی صحیح نشوونما کے لیے ضروری ہیں بلکہ ماں کی توانائی، مدافعتی نظام اور مجموعی صحت کے لیے بھی ناگزیر ہیں۔ اومیگا تھری فیٹی ایسڈز بچے کی دماغی اور بصری نشوونما میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، جبکہ وٹامن سی اور زنک بیماریوں سے بچاؤ میں مدد دیتے ہیں۔ وٹامن بی کمپلیکس توانائی فراہم کرتا ہے، اور فائبر قبض سے نجات دلاتا ہے۔ سب سے بڑھ کر، مناسب پانی کا استعمال اور الیکٹرولائٹس کا توازن برقرار رکھنا اس سفر کو زیادہ خوشگوار بناتا ہے۔ ایک صحت مند حمل کے لیے متوازن غذا اور ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل پیرا ہونا ہی کامیابی کی کنجی ہے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) 📖

س: کون سے وٹامنز اور معدنیات حمل کے دوران سب سے زیادہ اہم ہیں اور یہ ماں اور بچے کی صحت کے لیے کیا کردار ادا کرتے ہیں؟

ج: جب حمل کی بات آتی ہے تو مجھے یاد ہے کہ میری ڈاکٹر نے ہمیشہ چند غذائی اجزاء پر خاص زور دیا تھا۔ یہ واقعی ہمارے اور ہمارے ننھے مہمان کے لیے بنیاد کا کام کرتے ہیں۔ سب سے پہلے جو ذہن میں آتا ہے وہ ہے “فولک ایسڈ”۔ یہ کسی ہیرو سے کم نہیں!
حمل کے بالکل ابتدائی ہفتوں میں، جب آپ کو شاید پتا بھی نہ ہو کہ آپ حاملہ ہیں، یہ بچے کے دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کی درست نشوونما کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے۔ اگر اس کی کمی ہو تو “نیورل ٹیوب ڈیفیکٹس” (Neural Tube Defects) جیسے مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ مجھے تو ڈاکٹر نے حمل سے پہلے ہی اس کا استعمال شروع کرنے کا مشورہ دیا تھا، اور میں نے ایسا ہی کیا!
اس کے بعد باری آتی ہے “آئرن” کی۔ ہماری جسم میں خون بنانے کے لیے یہ بہت اہم ہے، خاص طور پر حمل کے دوران جب آپ کے جسم میں خون کی مقدار کافی بڑھ جاتی ہے۔ آئرن کی کمی سے خون کی کمی (انیمیا) ہو سکتی ہے، جس سے آپ کو تھکاوٹ، کمزوری محسوس ہو گی، اور بچے کو بھی آکسیجن کی صحیح فراہمی نہیں ہو پائے گی۔ یقین کریں، میں نے خود محسوس کیا ہے کہ جب میرے آئرن کی سطح صحیح رہتی تھی تو مجھے کافی توانائی محسوس ہوتی تھی۔”کیلشیم” اور “وٹامن ڈی” کو کیسے بھول سکتے ہیں؟ یہ دونوں بچے کی ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی کے لیے ناگزیر ہیں۔ وٹامن ڈی کیلشیم کو جسم میں جذب کرنے میں مدد دیتا ہے، اور آپ دونوں کی ہڈیوں کی صحت کے لیے یہ جوڑی بہت ضروری ہے۔ اگر آپ کے جسم میں کیلشیم کی کمی ہو تو بچہ آپ کے جسم سے کیلشیم لے گا، جس سے طویل مدت میں آپ کی ہڈیاں کمزور ہو سکتی ہیں۔آخر میں “اومیگا تھری فیٹی ایسڈز” (خاص طور پر DHA)۔ یہ بچے کے دماغ اور آنکھوں کی نشوونما کے لیے سونے کا کام کرتے ہیں۔ مجھے تو مچھلی زیادہ پسند نہیں تھی، لیکن میں نے سپلیمنٹس کے ذریعے اس کی کمی پوری کی، کیونکہ میں نہیں چاہتی تھی کہ میرے بچے کی ذہنی نشوونما میں کوئی کسر رہ جائے۔ ان تمام غذائی اجزاء کا صحیح استعمال آپ کے حمل کو نہ صرف آسان بناتا ہے بلکہ آپ کے بچے کی صحت مند زندگی کی بنیاد بھی مضبوط کرتا ہے۔

س: ان ضروری غذائی اجزاء کو کب اور کس مقدار میں لینا چاہیے، اور کیا انہیں خوراک سے حاصل کرنا بہتر ہے یا سپلیمنٹس سے؟

ج: یہ سوال تو ہر حاملہ خاتون کے ذہن میں آتا ہے اور میرے اپنے حمل کے دوران بھی میں نے اس پر بہت تحقیق کی تھی۔ تو چلیں، میں آپ کو اپنے تجربے اور ماہرین کی رائے کی روشنی میں بتاتی ہوں۔”فولک ایسڈ” کے لیے سب سے بہترین وقت حمل سے کم از کم ایک ماہ پہلے سے لے کر حمل کے پہلے تین ماہ تک ہے۔ زیادہ تر ڈاکٹرز روزانہ 400 مائیکرو گرام (mcg) کی خوراک تجویز کرتے ہیں۔ کچھ خواتین، جنہیں پہلے کوئی پیچیدگی ہو یا جو جینیاتی طور پر زیادہ خطرے میں ہوں، انہیں زیادہ خوراک کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ خوراک سے فولک ایسڈ پتوں والی سبزیوں، دالوں، اور لیموں کے رس سے مل سکتا ہے، لیکن سپلیمنٹ کے ذریعے اس کی مطلوبہ مقدار کو یقینی بنانا زیادہ آسان اور مؤثر رہتا ہے۔ میں نے تو حمل کے فوراً بعد سے ہی اس کا سپلیمنٹ لینا شروع کر دیا تھا۔”آئرن” کی ضرورت حمل کے دوسرے اور تیسرے سہ ماہی میں بڑھ جاتی ہے، کیونکہ اس وقت بچے کی نشوونما تیزی سے ہوتی ہے اور آپ کے خون کا حجم بھی بڑھتا ہے۔ ڈاکٹرز عام طور پر روزانہ 27 ملی گرام (mg) آئرن کی تجویز کرتے ہیں۔ آپ اسے گوشت، چکن، مچھلی، دالوں، پالک اور کٹے ہوئے پھلوں سے حاصل کر سکتی ہیں۔ لیکن اگر آپ کا ڈاکٹر ضروری سمجھے تو آئرن سپلیمنٹ لینا بھی ضروری ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر آپ کو خون کی کمی کا خطرہ ہو۔ مجھے یاد ہے کہ آئرن کی گولیاں لینے سے کچھ قبض کا مسئلہ ہو جاتا تھا، لیکن اپنی ڈاکٹر کے مشورے سے میں نے پانی کا زیادہ استعمال کیا اور ریشے دار غذائیں کھائیں۔”کیلشیم” اور “وٹامن ڈی” حمل کے پورے دوران اہم ہیں۔ کیلشیم کے لیے روزانہ 1000 سے 1300 ملی گرام اور وٹامن ڈی کے لیے 600 انٹرنیشنل یونٹس (IU) کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ اسے دودھ، دہی، پنیر، پتوں والی سبزیوں اور کچھ مچھلیوں سے حاصل کر سکتی ہیں۔ وٹامن ڈی سورج کی روشنی سے بھی حاصل ہوتا ہے، لیکن ہمارے ہاں اکثر خواتین کو اس کی کمی کا سامنا ہوتا ہے، اس لیے سپلیمنٹ اکثر تجویز کیا جاتا ہے۔ میں تو صبح کی دھوپ میں تھوڑی دیر بیٹھنے کی کوشش کرتی تھی، ساتھ ہی سپلیمنٹ بھی لیتی تھی۔”اومیگا تھری” کے لیے حمل کے دوسرے سہ ماہی سے لے کر بچے کی پیدائش تک اس کی ضرورت رہتی ہے۔ عام طور پر 200 سے 300 ملی گرام DHA روزانہ تجویز کیا جاتا ہے۔ یہ آپ کو مچھلی جیسے سامن اور سارڈینز سے مل سکتا ہے، یا پھر سپلیمنٹس سے۔جہاں تک خوراک اور سپلیمنٹس کا تعلق ہے، تو میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ متوازن اور صحت مند خوراک ہمیشہ بہترین ذریعہ ہے۔ لیکن حمل کے دوران بعض اوقات صرف خوراک سے مطلوبہ مقدار حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے، اس لیے ڈاکٹر کے مشورے سے سپلیمنٹس لینا بالکل ٹھیک ہے۔ میں نے تو دونوں کو ساتھ لے کر چلا، یعنی صحت مند کھانا بھی کھایا اور ڈاکٹر کے بتائے گئے سپلیمنٹس بھی باقاعدگی سے لیے۔ ہمیشہ اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کیے بغیر کوئی بھی سپلیمنٹ نہ لیں، کیونکہ ہر خاتون کی ضرورتیں مختلف ہوتی ہیں۔

س: حمل کے دوران خوراک سے متعلق کچھ عام غلط فہمیاں کیا ہیں، اور کیا کوئی خاص غذائیں ہیں جو حمل کو صحت مند بنانے میں مدد دیتی ہیں؟

ج: حمل کے دوران مجھے بہت سی ایسی باتیں سننے کو ملی تھیں جو ہماری دادی نانی کے زمانے سے چلی آ رہی ہیں، لیکن آج کل کی سائنسی تحقیق نے ان میں سے کئی کو غلط ثابت کیا ہے۔ تو آئیے، کچھ عام غلط فہمیوں اور حقیقت کو جانتے ہیں:پہلی اور سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ “حمل میں دو لوگوں کے لیے کھانا چاہیے”۔ یہ بالکل غلط ہے!
ہاں، آپ کی غذائی ضروریات بڑھ جاتی ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کو دگنی مقدار میں کھانا ہے۔ حمل کے پہلے تین ماہ میں آپ کو اضافی کیلوریز کی ضرورت نہیں ہوتی، جبکہ دوسرے اور تیسرے سہ ماہی میں تقریباً 300-400 اضافی کیلوریز درکار ہوتی ہیں۔ اگر آپ زیادہ کھائیں گی تو غیر ضروری وزن بڑھے گا جو نہ صرف آپ کے لیے بلکہ بچے کی صحت کے لیے بھی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ میرا ذاتی مشورہ ہے کہ مقدار کی بجائے معیار پر توجہ دیں۔دوسری غلط فہمی یہ ہے کہ “کچی یا بغیر پکی ہوئی چیزیں کھانے سے کوئی نقصان نہیں ہوتا”۔ نہیں، ایسا بالکل نہیں ہے۔ کچا دودھ، بغیر پکا گوشت، اور کچے انڈے “لِسٹیریوسِس” (Listeriosis) اور “ٹاکسوپلاسموسِس” (Toxoplasmosis) جیسے خطرناک انفیکشن کا باعث بن سکتے ہیں، جو بچے کے لیے بہت نقصان دہ ہیں۔ ہمیشہ کھانا اچھی طرح پکا کر کھائیں اور کھانے سے پہلے اچھی طرح ہاتھ دھو لیں۔ میں تو شروع سے ہی اس بات کا بہت خیال رکھتی تھی تاکہ کوئی بھی خطرہ مول نہ لوں۔اب بات کرتے ہیں کچھ ایسی خاص غذاؤں کی جو حمل کو صحت مند بنانے میں مدد دیتی ہیں:1.
تازہ پھل اور سبزیاں: ہر رنگ کے پھل اور سبزیاں آپ کی پلیٹ میں ہونی چاہئیں۔ یہ وٹامنز، معدنیات اور ریشے سے بھرپور ہوتے ہیں جو قبض سے بچاتے ہیں اور آپ کو توانائی فراہم کرتے ہیں۔ مجھے خاص طور پر سیب، کیلے، اور پتوں والی سبزیاں بہت پسند تھیں۔
2.
دالیں اور پھلیاں: یہ پروٹین، آئرن اور فولک ایسڈ کا بہترین ذریعہ ہیں۔ ہمارے ہاں دالیں روزمرہ کے کھانے کا حصہ ہیں، اس لیے انہیں اپنی خوراک میں باقاعدگی سے شامل کریں۔
3.
ڈیری مصنوعات: دودھ، دہی اور پنیر کیلشیم اور پروٹین کے بہترین ذرائع ہیں۔ دہی آپ کے ہاضمے کے لیے بھی بہت اچھا ہے۔ میں نے تو روزانہ ایک گلاس دودھ پینا اپنا معمول بنا لیا تھا۔
4.
اچھے کاربوہائیڈریٹس: براؤن رائس، ہول گرین روٹی اور جو جیسی غذائیں آپ کو دیرپا توانائی فراہم کرتی ہیں اور ریشے سے بھرپور ہوتی ہیں۔
5. پانی: شاید یہ سب سے اہم “غذا” ہے۔ حمل کے دوران پانی کی کمی سے بچنے کے لیے کم از کم 8-10 گلاس پانی روزانہ پئیں۔ یہ آپ کو ڈی ہائیڈریشن، قبض اور پیشاب کے انفیکشن سے بچاتا ہے۔ میں تو ہمیشہ اپنی پانی کی بوتل اپنے ساتھ رکھتی تھی۔ان تمام باتوں کا خیال رکھنا اور اپنے ڈاکٹر کے مشورے پر عمل کرنا ایک صحت مند اور خوشگوار حمل کے لیے بہت ضروری ہے۔ یاد رکھیں، آپ اپنے بچے کی صحت کی بنیاد رکھ رہی ہیں، اس لیے ہر فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں۔

Advertisement